ظلم کے خلاف مزاحمت اور حقِ دفاع: قرآنی حکم اور انبیاءؑ و حکماء کا مسلمہ اصول ، اس کی روشنی میں انسانیت دشمن سامراجی یلغار کا جائزہ | 20-03-2026 Podcast By  cover art

ظلم کے خلاف مزاحمت اور حقِ دفاع: قرآنی حکم اور انبیاءؑ و حکماء کا مسلمہ اصول ، اس کی روشنی میں انسانیت دشمن سامراجی یلغار کا جائزہ | 20-03-2026

ظلم کے خلاف مزاحمت اور حقِ دفاع: قرآنی حکم اور انبیاءؑ و حکماء کا مسلمہ اصول ، اس کی روشنی میں انسانیت دشمن سامراجی یلغار کا جائزہ | 20-03-2026

Listen for free

View show details
ظلم کے خلاف مزاحمت اور حقِ دفاع: قرآنی حکم اور انبیاءؑ و حکماء کا مسلمہ اصول ، اس کی روشنی میں انسانیت دشمن سامراجی یلغار کا جائزہخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : ۳۰؍رمضان المبارک 1447ھ / 20؍ مارچ 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:آیتِ قرآنی:1۔ وَ لَا تَرۡکَنُوۡا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ۔ (11-ہود:113)ترجمہ : ”اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے“۔حدیث نبویﷺ:1۔ عن ابن محيريز قال: قال رسول الله ﷺ:’’عن ابن مُحَيْريز مرفوعاً: "فارس نطحة أو نطحتان ثم لا فارس بعد هذا، والروم ذوات القرون كلما ‌هلك ‌قرن ‌خلفه قرن، هيهات إلى آخر الدهر هم اصحابكم ما كان في العيش خير‘‘ترجمہ: ’’حضرت ابن محیریز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فارس مسلمانوں سے ایک یا دو مرتبہ جنگ کرے گا، پھر اس کے بعد مملکت فارس کا وجود نہ رہے گا۔ روم صدیوں رہے گا، وہ سمندر اور چٹانوں کے مالک لوگ ہیں۔ جب ایک دور ختم ہو گا دوسرا آ جائے گا، روم کا آخری دور بہت برا ہوگا۔یہ تمہارے ساتھی ہیں جب تک کے اچھے طریقے پر رہیں۔ ( فارس کی حکومت ایک یا دو بار مسلمان فوجوں سے لڑ سکے گی پھر بکھر جائے گی، جبکہ رومیوں کی سلطنت چلتی رہے گی جب تک کہ وہ مسلمانوں کے تابع رہیں گے ان میں خیر رہے گی۔ جب مسلمانوں سے الگ ہو گئے، ہیہات الی آخر الدہر کا مطلب یہ ہے کہ اس کا آخری دور بہت بھیانک ہو گا)‘‘۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجهاد/حدیث: 20490]🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ قرآنی تعلیمات اور نبوی احکامات میں تا قیامت جامع رہنمائی✔️ خطبے کی مرکزی آیت ’’وَ لَا تَرْكَنُوْا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ‘‘ کا معنی و مفہوم✔️ حضرت آدمؑ سے مسیحِ دجال تک ظالم و مظلوم کی کشمکش جاری ✔️ مغربی نسلوں میں جبلی سفاکیت و ظلم کی اصل وجہ✔️ مظلوم کو حق دفاع حاصل نیز ظالموں کی طرف معمولی رجحان رکھنے کی قطعی ممانعت✔️ صاحبِ اقتدار افراد و اقوام اور ممالک چار انسانی امور کی حفاظت کے پابند✔️ تمام مذاہب میں ظالموں کے خلاف عملاً اقدام کا حکم ✔️ ظالموں سے جنگ اور مقابلہ کرنا ہر دور کے انبیاءؑ، مصلحین اور انسان دوست حکماء کا تقاضا رہا ہے✔️ عدم تشدد وقتی حکمت عملی لیکن حدیث’’انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا‘‘ کے تناظر میں مظلوم کی حمایت کی ناگزیریت✔️ ظلم کے خاتمے، عدل کے قیام اور ظالم طبقوں کے خلاف نبی اکرمؐ کی تنبیہ✔️ خطبے کی مرکزی حدیث کی توضیح و تشریح؛ فارس کی فتح کی نبوی بشارت✔️ حدیث کے الفاظ؛ الروم ذوات القرون اور اصحابِ بحر و صخر کا معنی و مفہوم ✔️ مغربی شیطانوں کی آخری زمانے میں انسانیت پر یلغار کی نبوی پیشن گوئی اور بچاؤ کا حکم✔️ سامراجی بھیڑیوں کا مسلسل انسانیت پر ظلم، قتل وغارت گری اور معاشی استحصالی جارحیت✔️ مغربی بدمعاشوں کی آماجگاہ اور عیسوی تعلیمات کی خلاف ورزی✔️ رسول اللہ ﷺ کا امتی، مسلمان حکمران اور مسلم امہ ظالم کے حامی یا مظلوم کے حمایتی؟...
No reviews yet